Journal محبت ہم بھی کر لیں گے یہ غلطی تم بھی کر لینا چلو تم سے ہی کر لیں گے کسی سے تم بھی کر لینا تمہیں ہم دوست کہتے ہیں تو اچھا مشورہ دیں گئے محبت تم نے کرنی ہے سنو ہم سے ہی کر لینا۔۔۔۔۔۔ Gallery محبت ہم بھی کر لیں گے یہ غلطی تم بھی کر لینا چلو تم سے ہی کر لیں گے کسی سے تم بھی کر لینا تمہیں ہم دوست کہتے ہیں تو اچھا مشورہ دیں گئے محبت تم نے کرنی ہے سنو ہم سے ہی کر لینا۔۔۔۔۔۔June 28, 2024|Poetry|read more “وہ چاہتا تھا”مگر میں نے چھوڑا پہلے باتھ، اس کے حصے کی ندامت بھی میں نے اٹھا لی۔ Gallery “وہ چاہتا تھا”مگر میں نے چھوڑا پہلے باتھ، اس کے حصے کی ندامت بھی میں نے اٹھا لی۔June 18, 2024|Quotes| read more مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی Gallery مجھ کو عادت ہے مسکرانے کیJune 13, 2024|Poetry|مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی غم چھپانے کی، دل جلانے کی شب کی تنہائی میں تڑپتا ہوں یہ بھی رسم ہے دل بہلانے کی read more Waves crash upon the shore, but the ocean always returns to its calm Gallery Waves crash upon the shore, but the ocean always returns to its calmJune 12, 2024|Quotes| read more “Love started, destiny stopped.” Gallery “Love started, destiny stopped.”June 12, 2024|Quotes|read more قتل کرنا ہے تو خنجر سے وار نہ کر میرے مرنے کے لیے تیرا اوروں سے پیار بہت ہے۔۔۔۔۔۔ Gallery قتل کرنا ہے تو خنجر سے وار نہ کر میرے مرنے کے لیے تیرا اوروں سے پیار بہت ہے۔۔۔۔۔۔June 7, 2024|Poetry|read more یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا Gallery یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملاJune 5, 2024|Poetry|read more دل شریک کو ہے عادت تمہیں تنگ کرنے کی میں با وفا ہو کر بھی بے وفا ہو جاتا ہوں اور تمہیں ہے ناز تمہارے منا لینے کی خوبی پر سو میں بات بات پر تم سے خفا ہو جاتا ہوں Gallery دل شریک کو ہے عادت تمہیں تنگ کرنے کی میں با وفا ہو کر بھی بے وفا ہو جاتا ہوں اور تمہیں ہے ناز تمہارے منا لینے کی خوبی پر سو میں بات بات پر تم سے خفا ہو جاتا ہوںJune 4, 2024|Poetry|read more کاش کہ موت کچھ یوں آۓ تیرا دیدار ہو اور ہم مر جائیں ۔۔۔ Gallery کاش کہ موت کچھ یوں آۓ تیرا دیدار ہو اور ہم مر جائیں ۔۔۔May 30, 2024|Poetry|read more تیری دریاؤں سی عادت ہی تجھے لے ڈوبی میں بتاتا بھی رہا ، یہ ہے کنارہ ، پاگل ہر کسی سے نہیں امید لگائی جاتی ہر کوئیدے نہیں سکتا سہارا ، پاگل Gallery تیری دریاؤں سی عادت ہی تجھے لے ڈوبی میں بتاتا بھی رہا ، یہ ہے کنارہ ، پاگل ہر کسی سے نہیں امید لگائی جاتی ہر کوئیدے نہیں سکتا سہارا ، پاگل May 25, 2024|Poetry|read more Previous234Next0%SPECIAL OFFERTake some time. Treat yourself. You deserve it.Book a treatment this month and receive a 25% on all further treatments. BOOK NOW